دل پہ بجلی مرے گری ہے ابھی

دل پہ بجلی مرے گری ہے ابھی

ساس اچانک ٹپک پڑی ہے ابھی

 

کیسے محفل میں حسن کو تاڑوں

سر پہ بیگم مری کھڑی ہے ابھی

 

اب تو بیلن کو چھوڑ دے بیگم

دیکھ! پسلی میری جڑی ہے ابھی

 

شادیاں چار ہوگئیں لیکن

جانِ من آپ کی کمی ہے ابھی

 

چھوڑ سکتی نہیں ابھی وہ مجھے

ایک کوٹھی میری بچی ہے ابھی

 

چھوڑ دوں میں ابھی وزارت کیوں

اک تجوری فقط بھری ہے ابھی

 

چور ڈاکو پہنچ گئے پہلے

جبکہ بستی نہیں بسی ہے ابھی

 

بینک سے لی تھی لیز پر گاڑی

بیچ کر قسط اک بھری ہے ابھی

 

بعد شادی کے آگ اگلے گی

وہ حسینہ جو پھلجھڑی ہے ابھی

 

جاگ جائے گی قوم بھی اک دن 

“غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *