بیگم سے تو پٹا تو ہے پر یوں پٹا کہ یوں

بیگم سے تو پٹا تو ہے، پر یوں پٹا کہ یوں

مرغا بنا تو کیسے بنا، یوں بنا کہ یوں

 

بیگم تمہارے باپ کی ٹوٹی ہے کیسے ٹانگ

لے جا کے مجھ کو بام پہ، دھکا دیا کہ یوں

 

کنگھی نہ تھی تو جوئیں نکالی ہیں کس طرح؟

“زلفوں کو رخ پہ ڈال کہ جھٹکا دیا کہ یوں”

 

شوہر کو بس میں کرنے کا امی بتا دیں راز

پکڑا کے ماں نے ہاتھ میں بیلن کہا کہ یوں

 

ہوں میں، دل سے نکالو گے کس طرح So Cute

چٹکی بجا کے یار نے چلتا کیا کہ یوں

 

محبوب تم نے کیسے بنائے ہیں درجنوں

پیروں سے وہ لپٹ گیا، کہنے لگا کہ یوں

 

حجام کیسے شیخ نے رشتہ دیا تجھے؟

گرن پہ اس نے روک دیا اُسترا کہ یوں

 

بیوی کی موت کی وجہ پوچھی جو بار بار

تنگ آگیا، دبوچ لیا ٹیٹوا کہ یوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *