بات جیسی بھی ہو بیگم کی اثر رکھتی ہے

بات جیسی بھی ہو بیگم کی اثر رکھتی ہے

کیونکہ منوانے کا وہ خوب ہنر رکھتی ہے

 

کس سے ملتا ہوں، کہاں سے میں کہاں جاتا ہوں

صبح کی شام کی پل پل کی خبر رکھتی ہے

 

میرے کپڑوں سے بتاتی ہے کہ میں کس سے ملا

سونگھنے کا بھی وہ کچھ خاص ہنر رکھتی ہے

 

نوٹ چھپتے ہیں جرابوں میں کہاں بیگم سے

ایکسرے جیسی وہ باریک نظر رکھتی ہے

 

کون میٹنگ میں ملی، لنچ کیا کس کے ساتھ

گھر میں رہ کر بھی وہ دفتر کی خبر رکھتی ہے

 

شک بھی ہوتا ہے کہ بیگم ہے کہ جاسوس ہے وہ

میری ہر بات پہ کچھ ایسے نظر رکھتی ہے

 

گھر سے وہ مجھ کو نکالے گی فقط دھمکی نہیں

باندھ کر ہی وہ میرا رختِ سفر رکھتی ہے

 

وہ چلاتی ہے چھری روز کچن میں لیکن

پیٹ میں میرے گھسانے کا جگر رکھتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *